قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے از مفتی محمد نعمان حنفی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے

تحریر:ابو عفان مفتی محمد نعمان حنفی
کنوینئر تنظیم الارشاد
مدرس جامعہ غوثیہ رضویہ وجامعہ انیس المدارس سکھر
خطیب جامع مسجد قبہ مینارہ روڈسکھر
قربانی حضرت ابراہیم کی سنت ہے جو اس امت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم ا کوبھی قربانی کرنے کا حکم دیا گیا، ارشادربانی ہے:فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ 'تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔تو قربانی کرنا حکمِ خداوندی کی تعمیل ہے  اس کے متعلق پہلے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں پھر فقہی مسائل بیان ہوں گے

فضیلت قربانی

حضورسید عالم ا نے فرمایا کہ اولاد آدم کا کوئی عمل اللہ گکے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے)سے زیادہ محبوب نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل اللہ گ کے یہاں مقبولیت کی سند پا لیتا ہے اس لئے تم قربانی خوش دلی سے کیا کرو۔(جامع الترمذی رقم الحدیث:۳۹۴۱)
جناب زید بن ارقم ص سے مروی ہے صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ  یہ قربانیاں کیا ہیں، فرمایا:تمہارے باپ جناب ابراہیم ں کی سنت ہے''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی یارسول اللہ اہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے فرمایاہر بال کے بدلے نیکی ہے عرض کی اُون کا کیا حکم ہے فرمایااُون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ہے۔(سنن ابن ماجۃ،رقم الحدیث:۷۲۱۳)

قربانی کی پابندی

جناب عبداللہ بن عمر ص نے فرمایا کہ رسول اللہ انے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہرسال پابندی سے قربانی فرماتے رہے

نو ذی الحج کا روزہ

جناب قتادہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  نے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں فرمایا کہ میں اللہگ  سے امیدرکھتا ہوں کہ وہ اس (دن روزہ رکھنے)کی وجہ سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرمائے گا

مسائل قربانی

مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔ 
قربانی کس پر واجب ہے:مسلمان ہو،آزادہو،مقیم ہو،صاحب نصاب ہو، مردوعورت دونوں پر واجب ہے، رہا نابالغ ونابالغہ تونہ خود نابالغ ونابالغہ پر واجب ہے اور نہ ان دونوں کی طرف سے ان کے باپ پر واجب ہے۔(در مختار،کتاب الاضحیہ جز۶:۲۱۳،)
ولی (باپ) کا سب گھروالوں کی طرف سے ایک قربانی کرنا: ایک قربانی نہ سب کی طرف سے ہوسکتی ہے، نہ سوا مالک نصاب کے کسی اور پر واجب ہے۔ اگر اس کی نابالغ اولاد میں کوئی خود صاحب نصاب ہو تو وہ اپنی قربان جدا کرے، (فتاوی رضویہ جز۰۲ص۱۷)
قربانی واجب ہونے کا نصاب: وہی ہے جو صدقہ فطر کے واجب ہونے کا ہے۔لہٰذا جس مردوعورت کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یانقدی مال،یا تجارت کا سامان،یاضرورت سے زائد سامان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچوں چیزوں یا بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہو تواس مردوعورت پر قربانی واجب ہے،یہاں یہ بات ذہن نشین رہے وہ اشیاء جو ضرورت وحاجت کی نہ ہو بلکہ محض نمودونمائش کی ہویاگھر میں رکھی ہوئی ہو اور سارا سال استعمال میں نہ آتی ہو تووہ بھی نصاب میں شامل ہیں 
جانور کی عمر: دنبہ،بھیڑ،بکرابکری ایک سال کی۔ گائے بھینس دوسال کی، اوراونٹ کم ازکم پانچ سال کا ہو۔نیزفقہاء فرماتے ہیں کہ چھ ماہ کے دنبے کی قربانی جائز ہے بشرطیکہ وہ دنبہ اتنا بڑا ہوکہ اگر اس کو سال والے دنبوں میں ملایا جائے تودیکھنے میں سال والوں کے مشابہ ہو،یہ رخصت صرف دنبے کے بارے میں ہے۔بکرا،بکری میں نہیں (فتاوی رضویہ جز۰۲ص۸۸)
بال کاٹنا:قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ بقرہ عید کی نماز کے بعد  قربانی کرکے بال ا تروائے،نیز قربانی نہ کرنے والے بھی اگر قربانی کرنے والوں کی مشابہت اختیار کریں تو ثواب سے محروم نہیں ہونگے(مرقاۃ المفاتیح جلد۳ص۶۱۳)
جس جانور کے بال کاٹ لیے گئے ہوں اس کی قربانی درست ہے،اگر چہ قربانی کی نیت سے جانورخریدنے کے بعد اس کے بال کاٹنا جائز نہیں اگر کسی نے ایسا کرلیا تو اسکی قیمت کا صدقہ کرنا ضروری ہے
بسم اللہ کہنا: جانور ذبح کرتے وقت اگر بسم اللہ کہنا بھول گیا تو جانورحلال ہے۔نیزبسم اللہ،اللہ اکبرکہہ کر بندوق چلائی اور بندوق کا شکار زندہ ہاتھ آجائے اور بسم اللہ کہہ کر ذبح کرلیا تو حلال ہے ورنہ حرام۔ذبح اختیاری میں بسم اللہ ذبح کے ساتھ متصل ہونا شرط ہے یعنی بسم اللہ کہتے ہی ذبح کرے بسم اللہ پڑھنے کے بعد ذبح کرنے سے پہلے اور کوئی کام نہ کرے یہاں تک کہ اگر کسی نے بکری کو لٹا کربسم اللہ پڑھی اوراس بکری کو زندہ چھوڑ کردوسری بکری کو اسی بسم اللہ سے ذبح کیاتوذبیحہ جائز نہیں۔یونہی ایک قربانی کے جانور میں جتنے افراد شریک ہونگے تمام افراد کے لیے جانورکوذبح کرتے وقت بسم اللہ کہنا ضروری ہے صرف ذبح کرنے والے اور اس کے ساتھ چھری پریاذبح کرنے والے کے ہاتھ پروزن رکھنے والوں بسم اللہ کہنا ضروری ہے جانور کے پاؤں پکڑنے والون پر بسم اللہ کہنا ضروری نہیں (فتاوی عالمگیری جز۵ص۵۰۳،۸۸۲)
جانورکا گم ہونا:اگرصاحب نصاب آدمی نے جانورخریدا اور وہ گم ہوگیا اور اس نے دوسرا جانورخریدلیا اور قربانی سے پہلے گمشدہ جانور مل گیا تواس صاحب نصاب پر دونوں جانوروں میں سے ایک کی قربانی کرنا واجب ہے دونوں کی نہیں ہاں دونوں کوقربان کرنا مستحب ہے۔لیکن اگر فقیر کے ساتھ ایسا معاملہ ہوا تو اس پردونوں جانوروں کا قربان کرنا واجب ہے کیونکہ فقیرپرقربانی کرنا واجب نہیں تھی قربانی کی نیت سے جانورخریدنے کی وجہ سے قربانی واجب ہوگئی جب دوجانور اس نیت سے خریدے تو دونوں کی قربانی واجب ہوگئی(ردالمحتار جز۶ص۶۲۳،الفتاوی الھندیہ جز۵ص۴۹۲)
حاملہ جانور:جس جانور کے پیٹ میں بچہ ہے اس کی قربانی صحیح ہے البتہ جان بوجھ کرولادت کے قریب جانور کوذبح کرنا مکروہ ہے ذبح کے بعد جوبچہ پیٹ سے نکلے اسکو ذبح کرلیا جائے اور اسکا کھانا حلال ہیاور اگر وہ مردہ نکلے تو اسکا کھنا درست نہیں اگرذبح شدہ ماں کے پیٹ سے نکلا ہوابچہ ذبح نہ کیا تویہاں تک کہ قربانی کے دن گزرگئے تو اس زندہ بچے کو صدقہ کیا جائے گا(شامی جز۶ص۲۲۳)
چوری کا جانور: قربانی کے لیے جانور خریدا بعد میں معلوم ہواکہ چوری کا ہے تواس صورت میں اگر چور سے خریدا ہے توقربانی جائز نہ ہوگی دوسراجانورخریدکر قربانی کرنا لازم ہوگی(البدائع الصنائع جز۵ص۶۷)
جانور کے دانت:جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں اس کی قربانی درست نہیں اگرکچھ دانت گرگئے اور اکثر باقی ہیں تو قربانی جائز ہے اگر بکرا بکری کی عمر ایک سال اور گائے بھینس کی عمردوسال اوراونٹ اونٹنی کی عمر پانچ سال پوری ہوچکی ہو تو انکی قربانی درست ہے دانت نکلنا ضروری نہیں بلکہ مدت پوری ہونا شرط ہے لہٰذا مدت پوری ہونے کے بعددانت نہ بھی نکلے تو قربانی درست ہے(الفتح القدیر جز۸ص۴۳۴،البحرالرائق جز۸ص۷۷۱)
عیب دار جانور: جانوراگر عیبی ہے تو اس کی قربانی جائز نہیں۔لیکن اگر جانورذبح کرتے وقت اچھلا،کودا،یا کوئی اورحرکت کی جس کے سبب عیب پیداہوگیا تویہ عیب قربانی سے مانع نہیں (فتاوی عالمگیری جز۵ص۷۹۲)اگر جانور میں عیب قربانی سے قبل پیدا ہوا تودیکھا جائے گا کہ جانورکامالک مالدارصاحب نصاب ہے یافقیراگرمالدارصاحب نصاب ہے تو اس پر ضروری ہے کہ بے عیب جانورخریدکر قربانی کرے۔اوراگرفقیر ہے تو اس پر اسی عیبی جانور کی قربانی کرنا درست ہے(البحرالرائق جز۸ص۷۷۱)
قربانی کا گوشت ذمی کو دینا:قربانی کا گوشت ذمی بھنگی جمعدار کودینا جائز ہے(الفتاوی الھندیہ جز۵ص۰۳۳
لیکن چونکہ ہمارے ہاں کے ہندو وغیرہ ذمی نہیں لہذا ان کو نہ دینا بہتر ہے۔البتہ دے دیا تو جائز ہے۔
قربانی اورعقیقہ:ایک بڑے جانور میں قربانی اور عقیقہ دونوں جائز ہیں مثلاََ گائے میں پانچ حصے قربانی کی نیت سے لیے اور دو حصے عقیقہ کی نیت سے
ذبح کا طریقہ ودعا: ۔ قربانی سے پہلے سے جانورکو چارہ پانی دے دیں یعنی بھوکا پیاسا ذبح نہ کریں۔ اور ایک کے سامنے دوسرے کو نہ ذبح کریں اور پہلے سے چھری تیز کر لیں ایسا نہ ہو کہ جانور گرانے کے بعد اس کے سامنے چھری تیز کی جائے۔ جانور کو بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ قبلہ کو اس کا مونھ ہو اور اپنا داہنا پاؤں اوس کے پہلو پر رکھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کر دیا جائے اور ذبح سے پہلے یہ دُعا پڑھی جائے۔اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لاشَرِیْکَ لَہ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکْبَرُ.اسے پڑھ کر ذبح کر دے۔ قربانی اپنی طرف سے ہو تو ذبح کے بعد یہ دُعا پڑھے۔اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلَ مِنِّی کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم اس طرح ذبح کرے کہ چاروں رگیں کٹ جائیں یا کم سے کم تین رگیں کٹ جائیں۔ اس سے زیادہ نہ کاٹیں کہ چھری گردن کے مہرہ تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے پھر جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے یعنی جب تک اس کی روح بالکل نہ نکل جائے اس کے نہ پاؤں وغیرہ کاٹیں نہ کھال اتاریں اور اگر دوسرے کی طرف سے ذبح کرتا ہے تو مِنِّی کی جگہ مِن ْکے بعد اس کا نام لے۔ اور اگر وہ مشترک جانور ہے جیسے گائے اونٹ تو وزن سے گوشت تقسیم کیا جائے محض تخمینہ سے تقسیم نہ کریں۔ پھر اس گوشت کے تین حصے کر کے ایک حصہ فقرا پر تصدّق کرے اور ایک حصہ دوست و احباب کے یہاں بھیجے اور ایک اپنے گھر والوں کے لیے رکھے اور اس میں سے خود بھی کچھ کھالے اور اگر اہل و عیال زیادہ ہوں تو تہائی سے زیادہ بلکہ کل گوشت بھی گھر کے صرف میں لاسکتا ہے۔ (بہارشریعت حصہ پانزدہم ص۳۵۳)
نوٹ:عیدالاضحیٰ کی نمازجامع مسجدقبہ میں انشاء اللہ العزیز 8:30 بجے ادا کی جائے گی
نیزاپنے قربانی کے جانوروں کی کھالیں مدرسہ عربیہ انوارالقران متصل قبہ مسجد میں جمع کراکر ثواب دارین حاصل کریں 
منجانب:انتظامیہ کمیٹی جامع مسجدقبہ ومدرسہ عربیہ انوارالقرآن مینارہ روڈ سکہر

Tanzeem Publications

  • رب پہ بھروسہ از مولانا فاروق احمد سومرو
  • شب وروز کی پکار از مولانا کریم داد قادری
  • برائیوں کی جڑ از مولانا احمد رضا
  • ظلم کی برائی از مولانا مشتاق احمد شمس القادری
  • اخلاص از مولان گلشیر احمد قادری
  • رضا بالقضاء از مولانا دانیال رضا
  • نیکی کی بہاریں از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • مہمان نوازی از علامہ عبد المصطفی شیخ زادہ
  • جمالِ شریعت سندھی ترجمہ بہارِ شریعت پہلا حصہ از مفتی جمیل احمد چنہ
  • شکرِ پروردگار از تنظیم الارشاد زیرِ طبع
  • فضائل رمضان از علامہ محمد صادق سومرو
  • عمامہ کے ماثور رنگ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری
  • الاصباح شرح صغری اوسط کبری از مفتی محمد شہزاد حافظ آبادی
  • ستائیس رجب کی عبادتیں ، عبادت یاگمراہی؟ از ابو اریب محمد چمن زمان نجم القادری